قرآن پاک میں ارشاد ھوتا ھے

٭ ۔۔۔۔۔۔۔۔ وَالَّذِینَ إِذَا اٴَنفَقُوا لَمْ یُسْرِفُوا وَلَمْ یَقْتُرُوا وَکَانَ بَیْنَ ذٰلِکَ قَوَامًا
وہ لوگ کہ خرج کرتے وقت اسراف کرتے ہیں اور نہ بخل سے کام لیتے ہیں بلکہ میانہ روی سے کام لیتے ہیں ۔ (فرقان ۔۴۷)

٭ ۔۔۔۔۔۔۔ وَلَاتُسْرِفُوا إِنَّہُ لَایُحِبُّ الْمُسْرِفِینَ
اسراف نہ کرو کہ اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ (انعام ۔۱۴۱،اعراف۔۳۱) ۔

٭ ۔۔۔۔۔۔۔ وَاَنَّ الْمُسْرَفِینَ ھُمْ اٴَصْحَابُ النَّارِ
اور یقینا مسرفین اصحاب دوزخ ہیں ۔ (مومن ۔۴۳) ۔

٭ ۔۔۔۔۔۔ وَلَاتُطِیعُوا اٴَمْرَ الْمُسْرِفِینَ
اور مسرفین کے حکم کی پیروی کی اطاعت نہ کرو ۔ (شوراء۔۱۵۱) ۔

٭ ۔۔۔۔۔۔ مُسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّکَ لِلْمُسْرِفِینَ
مفسرین پر تیرے پروردگا ر کی طرف سے نشان لگا دیئے گئے ہیں ۔ (ذارعات ۔۳۴)

٭ ۔۔۔۔۔ وَإِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْاٴَرْضِ وَإِنَّہُ لَمِنَ الْمُسْرِفِینَ
شک نہیں کہ فرعون روئے زمین پر بڑا بن بیٹاٹھاتھا اور اس میں بھی شک نہیں کہ وہ مسرفین میں سے تھا ۔ (یونس۔۸۳)

٭ ۔۔۔۔۔ إِنَّ اللهَ لَایَھْدِی مَنْ ھُوَ مُسْرِفٌ کَذَّابٌ
یقینا اللہ جھو ٹے مسرف کہ ہدایت نہیں کرتا ۔ (مومن ۔۲۸)

٭ ۔۔۔۔۔۔ وَاٴَھْلَکْنَا الْمُسْرِفِینَ
اور ہم نے مفسرین کو ہلاکت کر ڈالا ۔ (انبیاء ۔۲۸)