رب کائنات جب امت کو بخشنے پر آتا ہے تو تحفے میں رمضان دیتا ہے رمضان بہت ہی بابر کت مہینہ ہے ماہ رمضان کو عظمتوں رحمتوں اور برکتوں والامہینہ بھی کہا جاتا ہے جس طرح دنوں میں جمعہ کے دن کواور آسمانی کتابوں میں قرآن پاک کو فضیلت حاصل ہے اسی طرح 12 مہینوں میں ماہ رمضان کو بہت فضیلت حاصل ہے
ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ’’جب رمضان کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو آسمان کے دروازے ( ایک روایت میں جنت کے دروازے) کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کے دیئے جاتے ہیں اور شیطانوں کو زنجیریں پہنا دی جاتی ہیں‘‘ ۔اللہ تعالی فرماتے ہے’’ کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں ایک دروازے کا نام ریان ہے اس دروازے سے وہی لوگ جنت میں داخل ہونگے جو روزہ رکھتے ہیں‘‘ روزہ داروں کے لیے اللہ پاک نے جنت کا ایک دروازہ مخصوص کر رکھا ہے کہ اس (ریان) نامی دروازے سے صرف اور صرف روزہ داروں کو جنت میں داخل کیا جائے گارسول اللہ نے فرمایا کہ اللہ پاک نے واضح الفاظ میں فرمایا ہے کہ ’’میں روزہ دار بندوں کی دعا کبھی ردنہیں کرونگا‘‘ارشاد گرامی ہے کہ اللہ پاک تین بندوں کی دعا کبھی رد نہیں کرے گا 1 روزہ دار کی افطار کے وقت2 عادل بادشاہ کی 3 مظلوم کی! ایک روایت ہے کہ حق تعالی شانہ’’ رمضان میں عرش اٹھانے والے فرشتوں کو حکم فرماتے ہیں کہ اپنی عبادت کو چھوڑ دو اور روزہ داروں کی دعا پر آمین کہا کرو‘‘روزہ داروں کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی کیونکہ اللہ پاک خود فرماتے ہیںتو اس میں کوئی شک نہیں کے دعا ردنہ ہوگی بلکہ مختلف روایات میں ماہ رمضان کو دعا کا خصوصیت سے قبول ہونا کہا جاتا ہے کیونکہ دعا کی قبولیت کا وعدہ اللہ پاک نے خود کیا ہے